مینگلور 4 اپریل (ایس او نیوز) منگلور سٹی پولس کمشنر کے دفترکا گھیراؤ کرنے کی کوشش کرنے پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے کارکنوں پر زبردست لاٹھی چارج کرنے اور سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعدعوام نے پولس پر دن دھاڑے غنڈہ گردی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ آج کے واقعے کو لے کر مسلم تنظیمیں سخت حیران ہیں اور سوال کررہی ہیں کہ آیا ریاست میں کانگریس کا راج ہے یا پھر غنڈہ عناصروں کا راج ہے ؟ واقعے کو لے کر مسلمانوں کی مختلف تنظیموں نے پولس کے کردار پر سوالات اُٹھاتے ہوئے سخت مذمت کی ہے جبکہ کئی ایک نے پولس کمشنر کے تبادلے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واقعہ کیا ہے : سورتکل کے احمد قریشی کو مینگلور سی سی بی پولس نے 21 فروری کو اپنی حراست میں لیا تھا، پھر 27 فروری کو اسے عدالت میں پیش کیا گیا، مگر اب اطلاع موصول ہوئی ہے کہ پولس حراست میں اس پر اتنا زیادہ ظلم ڈھایا گیا کہ اس کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے ، خبر ملی ہے کہ اس کے جسم کے گوشت کاٹے گئے ہیں، ہاتھ اور پاؤں میں زخم کے جابجا نشان پائے گئے ہیں، بدن میں الیکٹرک شاک دینے کے بھی نشان دیکھے گئے ہیں، جس کے بعد اُسے نہایت ہی نازک حالت میں مینگلور کے سرکاری وینلاک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ احمد قریشی کے تعلق سے وینلاک اسپتال کی ڈاکٹر راجیشوری دیوی نے بتایا کہ احمد کی حالت انتہائی نازک ہے اور وہ اس وقت آئی سی یو میں زندگی اور موت سے جوج رہا ہے۔
احمد قریشی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا الزام؛
احمد قریشی کی گرفتاری، پھر اُسے چھ دنوں تک پولس کی غیر قانونی حراست میں رکھے جانے اور بعد میں اُس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے کے خلاف آج منگل کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی زیرقیادت منگلور سٹی پولس کمشنرکے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی غرض سے سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے، احتجاجی پولس کمشنر کے دفتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ اچانک پولس نے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسانا شروع کردیا۔ لاٹھیاں برسانے کی وڈیو فوٹیج پل بھر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جس میں پولس کی طرف سے ڈھائے جارہے ظلم کو صاف دیکھا گیا ہے۔ وڈیو فوٹیج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ احتجاجی سڑکوں پر بیٹھے ہیں اور پولس اُن پر لاٹھیاں برسا برسا کر اُنہیں بھگانے کی کوشش کررہی ہے، مگر جب احتجاجی مارکھانے کے باؤجود اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں تو اُنہیں اُٹھا اُٹھاکر پولس بس میں ڈالا جارہا ہے۔ ایسے میں چند لوگوں کے سروں پر سے خون بہہ رہا ہے تو کسی کے کپڑوں پر خون کے چھینٹے لگے دیکھے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پولس کی لاٹھی چارج سے سو سے زیادہ مظاہرین کو چوٹیں آئی ہیں جبکہ کئی ایک کو شدید چوٹ لگی ہے۔
پولس کے اعلیٰ حکام کا دفاع: احتجاجیوں پر پولس کے لاٹھی چارج کو لے کر جب اخبارنویسوں نے پولس کے اعلیٰ حکام سے سوال کرنے کی کوشش کی تو پولس کے اعلیٰ حکام نے یہ کہہ کر اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے کہ پی ایف آئی کے کارکنوں نے پہلے پتھراؤ کیا تھا، جس میں دو اسسٹنٹ پولس کمشنر سمیت گیارہ پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولس کمشنر کے مطابق جمہوری طریقے پر پی ایف آئی والوں کو احتجاج کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے پولس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی بناء پر لاٹھی چارج کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
اہم لیڈران گرفتار: احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسانے کے دوران پولس نے پی ایف آئی کے ضلعی صدر نواز اُلال، ریاستی سمیتی ممبر شافعی بلارے، ایس ڈی پی آئی ضلعی جنرل سکریٹری عطاء اللہ، آل انڈیا امام کونسل کے ریاستی جنرل سکریٹری جعفر صادق سعدی، پی ایف آئی بنٹوال کے ضلعی صدر اعجاز بنٹوال، بیلتنگڈی کے ضلعی صدر اقبال بیلتنگڈی سمیت جملہ 98 لوگوں کو پولس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ پولس نے ان سبھوں کو دو بسوں میں بھر کر جیل لے گئی، جبکہ پانچ لوگوں کو شدید زخمی ہونے کی بناء پرسرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
کیا ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے ؟: بتایا گیا ہے کہ احمد قریشی کو انصاف دلانے کے لئے کئے گئے احتجاج نے پولس لاٹھی چارج کے بعد کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے، عوام سوال کررہے ہیں کہ اگر یہی احتجاج کسی ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے کیا گیا ہوتا تو کیا اُس وقت بھی پولس کا رویہ ایسا ہی ہوتا جیسا کہ مسلم نوجوانوں پر لاٹھیاں برسا کر کیا گیا ؟ کیا اُس وقت بھی احتجاجیوں کو حوالات میں لے جاکر بند کیا گیا ہوتا ؟ حالانکہ دیگر شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کو پولس بس پر سوار کرکے لے جاتی ہے اور پانچ منٹ کے اندر رہا کردیتی ہے، مگر یہاں سبھی احتجاجیوں کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا ہے۔ عوام سوال کررہے ہیں کہ آیا ریاست میں کانگریس کی ہی حکومت ہے ؟
وزیر یوٹی قادر کیا کہتے ہیں :
مینگلور میں ہوئے واقعے کو لے کر ریاستی وزیر یوٹی قادر نے بتایا کہ پولس پر غنڈہ گردی اور ظلم ڈھانے کا جو الزام لگایا گیاہے، اُس کی جانچ ضروری ہے، جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ہی پولس آفسران کے خاطی پائے جانے پر اُن کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جس نوجوان پر ظلم ڈھایا گیا ہے، اُسے انصاف ملنا چاہئے ۔ یو ٹی قادر نے بتایا کہ میں نے اس تعلق سے پولس کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی ہے اور واقعے کی پوری رپورٹ طلب کی ہے۔
ویلفئیر پارٹی آف انڈیا کی مذمت:
پولس کے ڈھائے گئے ظلم سے جو نوجوان اس وقت اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے، اُسے فوری رہا کرنے اور اُسے انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج منگل کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قیادت میں جو احتجاج کیا جارہا تھا، اُس پر پولس نے جس طرح لاٹھیاں برسا ئیں، ویلفئیر پارٹی آف انڈیا اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ویلفئیر پارٹی نے مطالبہ کیا کہ پولس نے احتجاج کررہے جن کارکنوں اور لیڈروں کو گرفتار کیا ہے، اُنہیں فوری رہا کرے، اسی طرح احمد قریشی پر جن پولس اہلکاروں نے ظلم ڈھایا اور اُسے اس حال میں پہنچایا کہ وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے، ایسے اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور احمد قریشی کو بھی فوری رہا کیا جائے۔
پولس غنڈہ گردی کے خلاف ایس ایس ایف کی مذمت:
مینگلور میں احتجاج کررہے پی ایف آئی کارکنوں پر پولس نے جس طرح لاٹھی چارج کرتے ہوئے ظلم اور بربریت کا جو مظاہرہ کیا، ریاست کرناٹک سُنّی اسٹوڈینٹس فیڈریشن اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔ واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنّی اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے ریاستی صدر اسماعیل ثقافی نے بتایا کہ یہاں کوئی بھی احتجاج ہونے پر عام طور پر متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام احتجاجیوں کے پاس جاکر اُن سے بات چیت کرتے ہیں اور اُن کے مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، مگر منگلور میں احتجاجیوں پر جو کچھ بھی ہوا اور سوشیل میڈیا میں پولس کی لاٹھیاں برسانے کی جو وڈیو وائرل ہوئیں، اُسے دیکھتے ہوئے مسلم لیڈروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی چُپی کو توڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پولس نے اقلیتوں کے اندر ڈر اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ لاٹھیاں برسانے والی پولس کے خلاف ایکشن لیں ۔
لاٹھی چارج پر جماعت اسلامی ہند نے اُٹھایا سوال:
مینگلور میں ہوئے احتجاج پر پولس لاٹھی چارج اور پولس کسٹڈی میں ہوئے نوجوان پر ظلم کی جماعت اسلامی ہند نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جماعت اسلامی ہند مینگلور شاخ کے صدر محمد کنہی نے بتایا کہ حال ہی میں دکشن کنڑا میں کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، کئی لوگوں نے اشتعال انگیز تقریریں بھی کیں ہیں، مگر پولس نے کبھی بھی اور کسی پر بھی لاٹھی چارج نہیں کیا، مگر یہاں اچانک پولس نے کیوں لاٹھی چارج کیا، پولس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ جماعت اسلامی ہند نے لاٹھی چارج کرنے پر سوالات اُٹھاتے ہوئے اس کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح ضلع دکشن کنڑا ایس کے ایس ایس ایف نے بھی واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ دن بدن مسلمانوں پر ظلم بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے انصاف کے لئے احتجاج کرنے پر پولس کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے کے اقدام کو بے حد غلط قرار دیتے ہوئے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
مینگلور کمشنر کا تبادلہ کرنے کا مطالبہ:
مینگلور میں پی ایف آئی کارکنوں پر پولس لاٹھی چارج کو لے کر آل انڈیا امام کونسل دکشن کنڑا ضلعی جنرل سکریٹری حارث انیس نے پولس کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولس کے ظلم سے احمد کے جو دونوں گردے ناکارہ ہوئے ہیں، اُس کو انصاف دلایاجائے، اسی طرح انصاف دلانے کے مقصد سے پولس نے جن احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کیا اور کئی لیڈروں کو گرفتار کیا، حارث نے کہا کہ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مینگلور پولس عوام مخالف ہے، اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ احمد قریشی پر جن پولس اہلکاروں نے ظلم ڈھایا ہے اُن کو فوری سسپنڈ کیاجائے اور اُن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اسی طرح آل انڈیا امام کونسل نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسانے کا جس مینگلو رپولس کمشنر نے حکم دیا تھا، اُس کا فوری یہاں سے تبادلہ کیا جائے اور تمام پی ایف آئی کارکنوں کو فوری رہا کیاجائے۔
اس سے قبل شائع رپورٹ: